ابنا: يہ مذاکرات ايک ايسے وقت شروع ہوئے ہيں جب جنوبي سوڈان کو اپني آزادي کي پہلي سالگرہ کي آمد کے موقع پر متعدد مشکلات اور چيلنجوں کا سامنا ہے۔
اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل بان کي مون نے جنوبي سوڈان کي معاشي حالت کے بارے ميں سلامتي کونسل ميں پيش کي گئي اپني رپورٹ ميں کہا ہے کہ اس ملک کو اقتصادي سيکورٹي اور انساني بحران کا سامنا ہے۔
ياد رہے کہ خرطوم حکومت سے عليحدہ ہونے کے لئے تين عشروں تک جد وجہد کرنے کے بعد جنوبي سوڈان نے گذشتہ برس نو جولائي کو عالمي نقشے پر اپنے لئے ايک نئے ملک کا اعلان کيا۔
اس درميان سوڈان کے ساتھ سرحدي لڑائيوں کي وجہ سے جنوبي سوڈان کي سرحديں بند ہوجانے اور اس ملک ميں تيل کي پيداوار تھم جانے سے جنوبي سوڈان کي حکومت کو شديد معاشي بحران کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
اعداد وشمار کے مطابق جنوبي سوڈان کو اپنے خام تيل کي فروخت کي اٹھانوے فيصد آمدني سے ہاتھ دھونا پڑا ہے جبکہ اشياء خوراک کي شديد قلت اور جنوبي سوڈان کے لوگوں کي اپنے وطن واپسي کے عمل نےجنوبي سوڈان کي حکومت کے لئے انساني بحران بھي پيدا کرديا ہے۔اقوام متحدہ کے سکريٹري جنرل بان کي مون نے اپني رپورٹ ميں کہا ہے کہ سوڈان کے ساتھ جنوبي سوڈان کے تعلقات معمول پر آجانے سے جنوبي سوڈان کي حکومت بہتر طريقے سے اپني معاشي مشکلات پر غلبہ پاسکے گي اور يہي چيز خود سوڈان کے بارے ميں بھي صادق آرہي ہے جس کو داخلي بحران کا سامنا ہے۔سوڈان ميں حکومت مخالف مظاہرے اور مخالف سياسي جماعتوں کے اتحاد کي تشکيل اس سياسي دباؤ کا نتيجہ ہے جو مغربي ممالک خرطوم حکومت پر ڈال رہے ہیں۔
واضح رہے کہ سوڈان اور جنوبي سوڈان کے درميان اس سے پہلےکے مذاکرات جو اپريل ميں ہورہے تھے اختلافات کي شدت کي وجہ سے ناکام ہوگئے تھے- اس وقت جنوبي سوڈان کي حکومت نے خرطوم حکومت کے اس الزام کو مسترد کرديا تھا کہ جنوبي سوڈان سوڈان کے اندر عليحدگي پسندوں کي حمايت کررہا ہے جبکہ جنوبي سوڈان نے بھي جواب ميں خرطوم حکومت پر الزام عائد کيا تھا کہ وہ جنوب ميں چھاپہ ماروں کي حمايت کررہي ہے۔
ايتھوپيا ميں شروع ہونےوالے ان مذاکرات کا اہم موضوع سرحدوں کي سيکورٹي ، تيل پيدا کرنےوالے علاقوں پر اختلافات کو ختم کرنا اور تيل سے حاصلہ آمدني کي منصفانہ تقسيم ہے۔
.......
/169